چور- اشفاق احمد
افسانے کاخلاصہ
ایک چور رات کو ایک گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوتاہےاورایک الماری کھولتا ہے جس میں دواوں کی شیشیاں بھری ہوتی ہیں۔ اسے ایک لفافہ ملتا ہے جس میں کچھ روپے اور ایک خط رکھا ہوتا ہے۔ چور لفافہ لے کر خوشی سے نکل جاتا ہے۔ گھر پہنچ کر لفافہ کھول کر خط پڑھتا ہے۔
خط میں کسی شکیلہ بیگم نے اپنے بھائی کو اپنے بیمار بیٹے کے علاج کے لئے رقم نہ دینے پر شکوہ کیا تھا اور لکھا تھا کہ ادھار وغیرہ لے کر علاج کے لئے رقم مہیا کرلی گئی ہے اور وہ بیٹے کو بغرضِ علاج پنڈی لیجانے والی ہیں۔ یہ حقیقیت جان کر چور کا سویا ہوا ضمیر بیدار ہوجاتا ہے۔ رات سخت اضطراب میں کاٹتا ہےاور صبح رقم لوٹانے گھر سے نکلتا مگر اسے جائے واردات پر پولیس والے تفتیس کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ خوفزدہ ہوکر داتا دربار چلاجاتا ہےمگر اسکا ضمیر پھر بھی اسے چین نہ لینے دیتا ہے۔ اگلے دن وہ پھر شکیلہ بیگم کے گھر کی طرف جاتا ہے تاکہ رجسٹری کا لفافہ پیسوں سمیت اندر اچھا ل دے لیکن ہمت نہیں ہوتی ہے۔
چور رات بھر اپنے ضمیر سے لڑتا رہتا ہے اور بالآخر اس کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ صبح کو نہا دھو کر سیدھا شکیلہ بیگم کے گھر پہنچتا ہے اور کنڈی کھٹکھٹا کر انتظار کرنے لگتا ہے کہ جونہی دروازہ کھلے وہ لفافہ اندر پھینک کر روانہ ہوجائے ۔ دروازہ کھلتا ہےمگر چور کی ہمت نہیں ہوتی ہے۔ چور وقت گزارنے کے لے قصور چلا جاتا ہے لیکن یہاں بھی اس کا ضمیر مطمئن نہیں ہوتا۔ ایک ہفتے کے بعد وہ پھر لاہور آتاہے اور سیدھا شکیلہ بیگم کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ جب وہ گلی کے موڑ پر پہنچا تو اندر سے بچے کا جنازہ باہر نکل رہاتھا۔۔چور آگے بڑھ کر میت کو کندھا دیتا ہے۔ بہت سے لوگ باتیں کررہے تھے اور چور کو برا بھلا کہہ رہے تھے جس نے سفرخرچ کی رقم چرا کہ بچے کی جان لے لی تھی۔
چور کا ضمیر اس جھنجھوڑتا ہے اور وہ سڑک پر گر جاتا ہے۔ لوگ اسے اٹھاتے ہیں -جنازہ میانی صاحب پہنچ جاتا ہے۔ جب تدفین سے فارغ ہوکر لوگ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں تو چور پھولوں کی ایک ٹوکری خریدتا ہے اور سقے کو پیسے دے کر ساری قبر پر چھڑکاو کرواتا ہے اور سارے پھول قبر پر ڈال دیتا ہے اور بہت دیر وہاں بیٹھا رہتا ہے۔ اس نیک کام کی بدولت اب اس کے ضمیر کا بوجھ ختم ہوجاتا ہے۔
Leave A Reply
You must be logged in to post a comment.

1 Comment
بہت اچھا لکھا ہے