
پاکستان میں نرسنگ کا مستقبل
پاکستان میں نرسنگ کا مستقبل : عالمی کیریئر کی طرف ایک مضبوط راستہ
پاکستان کا صحت کا شعبہ اس وقت ایک گہری اور تاریخی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ جہاں ماضی میں صحت کا نظام زیادہ تر ڈاکٹر پر مرکوز تھا، وہیں اب دنیا بھر میں ایک ایسا ماڈل ابھر رہا ہے جس میں نرسنگ کو مریضوں کی دیکھ بھال، کلینیکل گورننس اور کمیونٹی ہیلتھ میں مرکزی کردار حاصل ہو رہا ہے۔ اس بدلتے ہوئے عالمی رجحان کے تناظر میں پاکستان میں نرسنگ اب صرف ایک متبادل پیشہ نہیں رہی بلکہ ایک اسٹریٹیجک، محفوظ اور عالمی سطح پر قابلِ قبول کیریئر بن چکی ہے۔
پاکستان میں نرسوں کی شدید کمی: یقینی روزگار کا راستہ
وفاقی وزارتِ صحت، پاکستان نرسنگ کونسل اور قومی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تربیت یافتہ نرسوں کی تعداد ملک کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس وقت ملک میں رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ سولہ ہزار کے قریب ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے مطابق پاکستان کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کم از کم سات سے دس لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے۔ یہ فرق اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ آنے والے برسوں میں نرسنگ گریجویٹس کے لیے روزگار کے مواقع نہ صرف دستیاب ہوں گے بلکہ ان کی مانگ مسلسل بڑھے گی۔
یہ کمی صرف عددی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات اسپتالوں کے نظام پر بھی پڑ رہے ہیں۔ پاکستان کے کئی سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ایک نرس کو بیک وقت چالیس سے پچاس مریضوں کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے، جبکہ پاکستان نرسنگ کونسل اور عالمی معیار کے مطابق جنرل وارڈ میں ایک نرس کا زیادہ سے زیادہ تین مریضوں کے لیے ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس شدید دباؤ کے نتیجے میں حکومت اور نجی شعبہ دونوں صحت کے انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف کی ضرورت بھی کئی گنا بڑھ رہی ہے۔
BSN (بیچلر آف سائنس ان نرسنگ): نیا عالمی معیار
اسی تناظر میں نرسنگ کی تعلیم میں ایک بڑی ریگولیٹری تبدیلی بھی سامنے آئی ہے۔ پاکستان نرسنگ کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ اب نرسنگ کے لیے تین سالہ ڈپلومہ کے بجائے چار سالہ بیچلر آف سائنس اِن نرسنگ (BSN) یا (BScN) بنیادی معیار ہے۔ یہ ڈگری صرف کلینیکل ٹریننگ تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایناٹومی، فارماکولوجی، مائیکرو بایولوجی، اخلاقیات، ریسرچ اور لیڈرشپ جیسے مضامین شامل ہوتے ہیں۔ اس تبدیلی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ BSN پاکستانی طلبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے لیے برطانیہ، امریکہ اور خلیجی ممالک میں قانونی اور پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنا کہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستانی نرسوں کی بیرونِ ملک منتقلی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق 2024 میں سات لاکھ سے زائد پاکستانی پروفیشنلز بیرونِ ملک گئے، جن میں نرسنگ اسٹاف ایک نمایاں حصہ تھا۔ بعض رپورٹس کے مطابق نرسوں کی بیرونِ ملک منتقلی کی سالانہ شرحِ اضافہ پچاس فیصد سے بھی زیادہ رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر نرسنگ اسٹاف کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS)، امریکہ کے بڑے اسپتال نیٹ ورکس اور خلیجی ممالک کے صحت کے ادارے پاکستانی BSN گریجویٹس کو فعال طور پر بھرتی کر رہے ہیں۔
مرد نرسوں کا بڑھتا ہوا کردار
نرسنگ کے شعبے میں ایک اور اہم تبدیلی صنفی توازن کے حوالے سے سامنے آ رہی ہے۔ جہاں ماضی میں نرسنگ کو زیادہ تر خواتین سے منسوب کیا جاتا تھا، وہیں اب بڑی تعداد میں پاکستانی مرد بھی نرسنگ کو ایک باوقار، ٹیکنیکل اور ترقی یافتہ کیریئر کے طور پر اپنا رہے ہیں۔ خاص طور پر آئی سی یو، ایمرجنسی، آپریشن تھیٹر، اینستھیزیا اور کریٹیکل کیئر جیسے شعبوں میں مرد نرسوں کی طلب بڑھ رہی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی اسٹڈیز یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مرد نرس اکثر انتظامی اور لیڈرشپ عہدوں تک نسبتاً تیزی سے پہنچ جاتے ہیں، اور یہی رجحان اب پاکستان میں بھی واضح ہو رہا ہے۔ اس سے نرسنگ ایک حقیقی معنوں میں جینڈر نیوٹرل اور پروفیشنل شعبہ بن چکا ہے۔
عالمی مواقع: UK، USA اور خلیجی ممالک
بین الاقوامی مواقع کے حوالے سے دیکھا جائے تو برطانیہ میں نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل (NMC) کے ذریعے رجسٹریشن کے بعد پاکستانی نرسیں NHS میں مستقل ملازمت حاصل کر سکتی ہیں، جہاں ماہانہ تنخواہیں عموماً ڈھائی ہزار سے چونتیس سو پاؤنڈ کے درمیان ہوتی ہیں۔ امریکہ میں NCLEX-RN امتحان کے ذریعے رجسٹریشن کے بعد BSN نرسوں کو ایسے اسپتالوں میں ترجیح دی جاتی ہے جو Magnet اسٹیٹس رکھتے ہیں، اور وہاں تنخواہیں عموماً چار ہزار پانچ سو سے آٹھ ہزار ڈالر ماہانہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ٹیکس فری آمدن، مفت رہائش اور دیگر سہولیات کے ساتھ BSN نرسوں کے لیے انتہائی پرکشش پیکجز دستیاب ہیں۔
پاکستان کے نمایاں نرسنگ ادارے
پاکستان کے اندر بھی اعلیٰ معیار کی نرسنگ تعلیم کے لیے کئی نمایاں ادارے موجود ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کو پاکستان اور خطے کا سب سے معتبر ادارہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے فارغ التحصیل نرسیں عالمی سطح پر اعلیٰ مواقع حاصل کرتی ہیں۔ اسی طرح شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، خیبر میڈیکل یونیورسٹی، زیاالدین یونیورسٹی اور انڈس کالج آف نرسنگ جیسے ادارے بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق نرسنگ تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
Armed Forces Nursing Service (AFNS): باوقار سرکاری راستہ
لڑکیوں کے لیے آرمڈ فورسز نرسنگ سروس (AFNS) ایک منفرد اور باوقار راستہ فراہم کرتی ہے، جہاں بی ایس نرسنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان آرمی میں کمیشن، مستقل ملازمت اور سماجی وقار بھی حاصل ہوتا ہے۔ AFNS کے ذریعے نرسیں لیفٹیننٹ کے عہدے سے اپنی سروس کا آغاز کرتی ہیں، جو پاکستان میں نرسنگ کے سب سے معتبر کیریئر راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
ان تمام مواقع کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اعلیٰ نرسنگ اداروں میں داخلہ انتہائی مقابلے پر مبنی ہوتا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی، KMU، JSMU اور AFNS جیسے اداروں کے انٹری ٹیسٹس میں بیالوجی، کیمسٹری، فزکس، انگلش اور ریاضی یا جنرل نالج شامل ہوتے ہیں، اور ہر ادارے کا پیٹرن مختلف ہوتا ہے۔ اسی لیے عام تیاری کے بجائے خصوصی اور ہدف کے مطابق تیاری کامیابی کے لیے ناگزیر بن چکی ہے۔
Mahida Academy: نرسنگ انٹری ٹیسٹ کی بہترین تیاری
اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے Mahida Academy نے AKU نرسنگ انٹری ٹیسٹس کے لیے ایک خصوصی LMS-based تیاری کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے طلبہ چوبیس گھنٹے آن لائن تیاری کر سکتے ہیں۔ اس نظام میں ہزاروں MCQs، فل لینتھ ماک ٹیسٹس، AKU اسٹائل انگلش پریکٹس اور تفصیلی پرفارمنس اینالیسس شامل ہیں، جو طلبہ کو نہ صرف کوالیفائی کرنے بلکہ اعلیٰ میرٹ پر آنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
نتیجہ: نرسنگ = عالمی کامیابی + محفوظ مستقبل
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2025–2026 میں نرسنگ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک ایسا شعبہ بن چکا ہے جو بیک وقت انسانی خدمت، مالی استحکام اور عالمی کیریئر کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ نرسنگ اب ایک وقتی انتخاب نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹیجک سرمایہ کاری ہے۔ درست ادارے کا انتخاب اور درست تیاری کے ساتھ پاکستانی طلبہ عالمی صحت کے نظام میں ایک باوقار اور محفوظ مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
Mahida Academy اسی سفر میں طلبہ اور والدین کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر سامنے آتا ہے، جو نرسنگ کے خواب کو ایک مضبوط، عالمی حقیقت میں تبدیل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مستند حوالہ جاتی ویب سائٹس (Official References)
عالمی و پاکستانی ادارے
-
World Health Organization (WHO):
https://who.int -
Pakistan Nursing Council (PNC):
https://pnc.org.pk -
Higher Education Commission (HEC):
https://hec.gov.pk -
Pakistan Economic Survey:
https://finance.gov.pk
UK Nursing
-
Nursing & Midwifery Council (NMC):
https://nmc.org.uk -
NHS Pay Bands:
https://nhsemployers.org
USA Nursing
-
NCLEX (NCSBN):
https://ncsbn.org -
U.S. Bureau of Labor Statistics (Nurses):
https://bls.gov/ooh/healthcare/registered-nurses.htm
Gulf Licensing
-
Saudi Commission for Health Specialties (SCFHS):
https://scfhs.org.sa -
Dubai Health Authority (DHA):
https://dha.gov.ae
Pakistani Universities
-
Aga Khan University (SONAM):
https://aku.edu -
Shifa Tameer-e-Millat University:
https://stmu.edu.pk -
Jinnah Sindh Medical University (JSMU):
https://jsmu.edu.pk -
Khyber Medical University (KMU):
https://kmu.edu.pk/ -
Ziauddin University:
https://zu.edu.pk -
Indus Hospital & Health Network:
https://indushospital.org.pk
Armed Forces Nursing
-
Pakistan Army (AFNS):
https://www.joinpakarmy.gov.pk/course?com_type=afns_comission

