حمد-ماہر القادری
شاعر کا تعارف:
ماہر القادری کا اصل نام منظور حسین اور تخلص ماہر تھا۔ وہ ماہر القادری کے نام سے مشہور ہوئے۔ اُن کی ولادت 30 جولائی 1907ء کو ہوئی اور 12 مئی 1978ء میں وفات پا گئے۔ ماہر القادری اُردو کے نامور شاعر، صحافی، محقق اور نقاد تھے۔
شاعرانہ خصوصیات :
ماہر القادری نے عنقریب تمام اصناف سخن (اصناف شاعری) میں طبع آزمائی کی۔ لیکن اصل شہرت نعت گوئی سے حاصل کی۔ ان کے افسانے “طلسم حیات” کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعات میں محسوسات ماہر ، نغمات ماہر ، جذبات ماہر، ذکر جمیل ،اور نقشِ توحید قابل ذکر ہیں۔ مولانا ماہر القادری کے کلام میں تنقیدی شعور موجود ہے۔ ان کی شاعری میں حسین مناظر اور پروردگار کی قدرت کی حسین عکاسی کی گئی ہے۔مذہب سے گہرا لگاؤ ان کے حمدیہ اور نعتیہ کلام کا بنیادی جُز رہا ہے۔ ان کی مذہبی تحاریر میں قرآن و سنت کے حوالے جا بجا نظر آتے ہیں۔ آپ ایک نامور صحافی بھی تھے اس لیے صحافتی رنگ بھی آپ کی تحاریر میں نمایاں نظر آتا ہے۔
حمد کا مرکزی خیال:
اس حمد میں شاعر ماہر القادری نے ربّ العالمین کی ذات کی منفرد صفات پر روشنی ڈالی ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ اللّٰہ سبحانہ و تعالی رحمان ہے، رحیم ہے ، غفار ہے ، جبار ہے ، اول ہے، آخر ہے، ظاہر ہے، اور باطن ہے۔ اس کائنات و قدرت کا نظام اسی بابرکت ہستی نے سنبھالا ہوا ہے۔ اور ہر ذی روح اس کے حکم کی پیروکار اور تابع ہے۔ شاعر نے اس حمد میں ہمیں اپنے مقصد حیات یعنی اپنے خالق و رازق کی عبادت اور پیروی کرنے کی جانب بھی متوجہ کیا ہے۔ زندگی ، موت اور تقدیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے اس کے در سے امید لگانا اور اپنے معاملات اس کے سپرد کر دینے میں ہی اس دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔
حمد اور اس کی تشریح |
|
|
خالق بھی ، کارساز بھی ، پروردگار بھی وہ جس کی ذات پردہ کشا ، پردہ دار بھی تشریح:اللّٰہ کی توحید اور اس کی لامتناہی کا تذکرہ اس کی محبت میں ڈوبے ہوئے انداز میں کرتے ہوئے شاعر کا کہنا ہے کہ ہر بے جان جسم میں روح پھونک کر زندہ کرنے والا ، بگڑے کاموں کو بنانے والا اور پالنے والا ہمارا پاک پروردگار اللّٰہ ہی تو ہے ۔ اللّٰہ تعالی ہی انسان کا محرم راز ہے جو انسان کی اچھائی، انسان کے عیبوں پر پردہ بھی ڈال سکتا ہے اور چاہے تو ظاہر بھی کر سکتا ہے۔ اللّٰہ کی ذات ہی تو ہے جو ظاہری آنکھوں سے مجسم نظر نہیں آتی مگر اس کا جلوہ ہر ایک چیز میں عیاں ہے۔ |
1 |
|
ذکر خدائے پاک جو ہے جلَ شَانَهُ تسکین روح بھی ہے ، دلوں کا قرار بھی تشریح:پاک میں اللّٰہ تعالی خود ارشاد فرماتے ہیں کہ دلوں کی راحت اور سکون تو اللّٰہ کے ذکر میں ہے اسی بات کی طرف شاعر بھی اشارہ کر رہے ہیں اور گویا ہے کہ اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ کا ذکر کا چین اور روح کا آرام ہے۔ آزمائش کی گھڑی میں انسان کو پروردگار ہی یاد آتا ہے۔ اللّٰہ کا ذکر انسان کو ذہنی سکون میسر کرتا ہے اور انسان ذہنی تنگی سے آزاد ہوتا ہے |
2 |
|
سب ہیں اسی کے حکم سے دن ہو کہ رات ہو شامِ خزاں بھی اس کی ہے، صبحِ بہار بھی تشریح:شاعر خداوند تعالیٰ کی عظمت و بڑائی کو ایک منفرد انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دن رات کے آنے جانے میں اور موسموں کے بدلنے میں اللّٰہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ نظامِ کائنات اس بات کا شاہد ہے کہ اس دنیا کو چلانے والا بے حساب قوت اور قدرت کا مالک ہے۔ دنیا کا ہر نظارہ اس کے کُن کا منتظر رہتا ہے۔ خدا ہی وہ ہستی ہے جو ہماری زندگی میں غم کی شام اور مسرت کی صبح لاتا ہے۔ |
3 |
|
قدرت سے اس کی گرمِ سفر ہیں یہ مہر و ماه موجِ نسیم بھی ہے رواں، آبشار بھی تشریح:شاعر کہتے ہیں کہ زمین و آسمان میں قدرت کی پھیلی ہوئی نشانیاں بار بار انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ چاند و سورج آسمان پر اپنے سفر میں رواں دواں ہیں اور زمین پر صبح کے وقت چلنے والی ہوا اور بہتے ہوئے چشم بھی اللہ کے حکم کی بجا آوری کرتے دکھائے دیتے ہیں۔ |
4 |
|
وابستہ سب ہیں نظمِ قضا و قدر کے ساتھ لیل و نہار بھی، روشِ روزگار بھی تشریح:ابتدائے آفرینش سے ہی قدرت کا ایک واضح نظام ہے ۔ انسان تقدیر کا پابند ہے۔ روز ازل سے اس نظام میں کوئی بے ترتیبی واقع نہیں ہوئی۔ اس کائنات کے تمام مخلوق اسی نظام کے پابند ہیں۔ دن رات ہو یا روزی کمانے کے انداز سب کچھ اسی کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے تابع ہے۔ نیز سمندر کی گہرائیوں سے لے کر نیلے آسمان کی اونچائیوں۔ تک ہر مخلوق کی تقدیر اس عظیم ہستی نے درج رکھی ہے۔ تاریک رات کا صبح کی کرنوں سے روشن ہونا اور وقت کے ساتھ زمانے کی تبدیلی نظام قدرت کی گواہی ہے۔ |
5 |
|
یادِ خدا میں نغمہ سرا، نغمہ سنج ہیں طاؤس بھی، ہزار بھی، صلصل بھی، سار بھی تشریح:پر ذی نفس اپنی اپنی زبان اور انداز میں اپنے پروردگار کی تسبیح کرتا ہے۔ مور ہو یا بلبل، فاختہ ہو یا کوئی اور پرندہ پر کوئی اس کی حمد و ثنا میں مشغول نظر آتا ہے۔ کائنات کی ہر شے خدا کی حمد و ثنا میں محو رہتی ہے۔ |
6 |
|
مجھ سے گناہگار کو بخشش کی ہے امید اس سے کہ جو کریم ہے آمرزگار بھی تشریح:شاعر پروردگار کے حضور درخواست پیش کرتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار سے معافی کا خواستگار ہوں اور اس بات کی پختہ امید لئے ہوئے ہوں کہ وہ رحمان و رحیم مجھے بخش دے گا اور میری توبہ قبول فرمائے گا اور پروردگار تو گناہ گاروں کی امید نہیں بلکہ یقین ہے۔ |
7 |
Leave A Reply
You must be logged in to post a comment.

1 Comment
pls provide us with the qawaid of each shair