تذکروں میں اُردو تنقید-عبادت بریلوی
شاعروں کے کلام پر رائیں عموماً ذوقی اور وجدانی ہوتی ہیں۔ ان میں اس زمانے کے رواج کے مطابق لفاظی کو زیادہ دخل ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کی عبارت مقفٰی اور مسجّع ہوتی ہے تذکرہ نگار اپنی ذاتی اور انفرادی رائے کو پیش کرتا ہے۔ اس لیے اس میں اجتماعی نقطۂ نظر کو تلاش کرنا یا کسی ایسی قدر کو ڈھونڈنا جو دوسرے افراد کے ذوق سے ہم آہنگ ہو سکے بے کار سی بات ہے۔ اس ملک میں لکھنے والا مختلف شاعروں کے کلام کو دیکھ کر اپنے تاثرات کا اظہار کر دیتا ہے۔ لیکن ان تاثرات کے تنقیدی ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کیوں کہ آج بھی جب کہ تنقید میں سینکڑوں نئی نئی شاخیں پھوٹ رہی ہیں تاثراتی تنقید (IMPRESSIONISTIC CRITICISM) کے علم بردار اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائے بیٹھے ہیں۔ ان کے خیال میں اسی قسم کی تنقید صحیح تنقید ہے۔ دوسرے قسم کی تنقید صحیح معنوں میں تنقید کیے جانے کی مستحق نہیں۔ مجموعی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو میر کے تذکرے نکات الشعراء میں یہ رائیں معیاری نظر آتی ہیں۔ به قول ڈاکٹر مولوی عبدالحق: “میر صاحب پہلے تذکرہ نویس ہیں جنہوں نے صحیح تنقید سے کام لیا ہے اور جہاں کوئی سقم نظر آیا ہے بے رو و رعایت اس کا اظہار کر دیا ہے اور ہر شاعر کے متعلق جو ان کی رائے ہے اس کے ظاہر کرنے میں انھوں نے مطلق تامل نہیں کیا۔ یہ بات ہمارے تذکرہ نویسوں میں عام طور پر مفقود ہے۔ وہ اپنے گروہ کے شاعروں کی جابجا تعریف کرتے ہیں اور حریف گروہ والوں کی تعریف اول تو کرتے نہیں اور جو کرتے بھی ہیں تو دبی زبان سے اور اس میں کوئی چوٹ ضرور کر جاتے ہیں۔ میر صاحب کی شان اس سے بہت ارفع تھی۔ وہ کسی جتھے سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کی یہ خصوصیت ان کی تنقیدی رائے کو بہت بلند مرتبہ بنادیتی ہے۔ ان کی رائے میں خلوص ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی پر سخت تنقید یا نکتہ چینی کرتے ہیں تو اس میں کسی فرقہ بندی یا جتھے بندی کو دخل نہیں ہوتا۔ البتہ ہمدردی کے بجائے ہے دردی کی جھلک کہیں کہیں نظر آجاتی ہے۔ ڈاکٹر عبد اللّٰلہ کا یہ خیال بالکل صحیح ہے:
“نکات میں توقع کے خلاف تنقیدی مواد کافی سے زیادہ موجود ہے اور تنقید کے علاوہ مختلف اشخاص کی سیرت کے متعلق اس قدر برہنہ اور واشگاف رائیں پائی جاتی ہیں کہ جن کو پڑھ کر واقعی حیرت ہوتی ہے۔ ایک تو یوں بھی یہ بات زمانے کی فضا کے خلاف تھی پھر یہ بات اور بھی مستزاد ہوئی کہ معاصرین پر رائے زنی کرتے ہوئے میر نے ان کی دل شکنی کی مطلق پروا نہیں کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میر کی عام سیرت میں غرور اور خود بینی کا عنصر ضرور موجود تھا۔ جس سے عام معاصرین کو گلہ ہے۔ اگر میر کی تنقیدوں کو ان کی سیرت کی اس خامی کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو پھر شاید ہم میر کے معاصرین کی شکایت کو حق بجانب سمجھیں گے۔ اس لیے میر صاحب کا لہجہ شعرا کے ذکر میں طنز آمیز اور تلخ ہوتا ہے۔ جس سے تنقید میں ہمدردی بلکہ بے دردی کا احتمال پیدا ہوتا ہے”
اس میں شک نہیں کہ میر کی تقید میں یہ خامی ضرور ہے لیکن صرف اس کی وجہ سے ان کی تنقید کو تقید کہنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ ایسی رائیں نکات الشعرا میں بہت ہی کم ہیں۔ زیادہ رائیں معقول اور جچی تلی ہیں۔ جن میں خلوص بھی پایا جاتا ہے۔ مثلا میرزا سودا کے متعلق لکھتے ہیں:
“غزل و قصیده و قطعه و مخمس و رباعی ہمہ را خوب میگوید. سر آمد شعرائے ہندی اوست. بسیار خوش گواست ہر شعرش طرف لطف رستہ رستہ و چمن بندی الفاظش گل معنی دستہ دستہ بر مصرع برجستہ اش را سرو آزاد بنده، پیش فکر عالیش طبع عالی شرمندہ”
ان الفاظ کے ذریعے میر نے سودا کی شاعرانہ اہمیت کو ذہن نشین کرا دیا ہے۔ ان کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ ہندوستان کے بڑے شاعر ہیں۔ خوش گوئی ان کا حصہ ہے۔ ہر صنف میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور خوب کرتے ہیں۔ ان کے اشعار کی معنوی حیثیت بہت بلند ہے۔ صوری اعتبار سے بھی وہ اہم ہیں۔ کیوں کہ ان کو الفاظ کی چمن بندی میں ملکہ حاصل ہے۔ ان کا ہر مصرع حسین ہے اور سرو سے زیادہ حسین۔ ان کی فکر میں بلندی پائی جاتی ہے۔ ان خیالات کے تنقید ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ خاص قسم کی تنقید ہے جس کے طرز بیان میں الفاظ کی رنگینی کو زیادہ دخل ہے۔ لیکن یہ اس زمانے کا عام دستور ہی تھا کہ عبارت ر نگین مُقَفّٰی اور مسجّع لکھی جاتی تھی۔
میر نے نکات الشعرا میں سودا کی طرح میر درد کے کلام پر بھی تنقیدی نظر ڈالی ہے، رنگینی کو اس میں بھی دخل ہے۔ لیکن یہ اس وقت کا عام قاعدہ تھا کہ عبارت کو زور دار بنانے کے لیے اس کو مُقَفّٰی اور مسجّع بنا دیتے تھے۔ چنانچہ چوٹی کے شاعروں کے لیے میر نے عموماً ر نگین اور زیادہ مُقَفّٰی اور مسجّع عبارت استعمال کی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ان شاعروں کے متعلق اپنے بیانات کو زیادہ زور دار بنانا چاہتے تھے۔
لیکن ان شاعروں سے کم تر درجے کے شاعروں کے کلام پر جیسا اظہار خیال کرتے ہیں ان کے لہجے اور انداز بیان میں ایک تغیر پیدا ہو جاتا ہے وہ ان کےلیے زیادہ نہیں لکھتے اور جو کچھ لکھتے ہیں اس کی عبارت مُقَفّٰی اور مسجّع نہیں ہوتی۔ مثلا میاں شرف الدین مضمون کے کلام پر ان الفاظ میں رائے دیتے ہیں :
” ہر چند کم گو بود لیکن بسیار خوش فکر، تلاش لفظ تازہ زیادہ ۔”
یا اشرف علی خان فغاں کے متعلق صرف یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں:
“بسیار جوان قابل و ہنگامہ آرا شعر ریخته را نجوبی می گوید “
صاف ظاہر ہے کہ یہ خیالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان میں ہر اعتبار سے ایک نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ میر ہر شاعر کے مرتبے کے مطابق الفاظ استعمال کرتے ہیں اور ان کی رایوں کو پڑھ کر ہر شخص ان شاعروں کے متعلق صحیح رائے قائم کر سکتا ہے۔ مزید دیکھئیے۔
https://www.youtube.com/watch?v=zuwdTA2mxTU
