مچھر- خواجہ حسن نظامی
یہ بھنبھناتا ہوا چھوٹا سا پرندہ آپ کو بہت ستاتا ہے۔ رات کی نیند حرام کر دی ہے۔ہندو، مسلمان، عیسائی، یہودی سب بالاتفاق اس سے ناراض ہیں۔ ہر روز اس کے مقابلے کے لیے مہمیں تیار ہوتی ہیں، جنگ کے نقشے بنائے جاتے ہیں مگر مچھروں کے جنرل کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ شکست پر شکست ہوئی چلی جاتی ہے اور مچھروں کا لشکر بڑھا چلا آتا ہے۔
اتنے بڑے ڈیل ڈول کا انسان ذرا سے بھنگے پر قابو نہیں پاسکتا۔ طرح طرح کے مسالے بھی بناتا ہے کہ اُن کی بو سے مچھر بھاگ جائیں لیکن مچھر اپنی یُورش سے باز نہیں آتے۔ آتے ہیں اور نعرے لگاتے ہوئے آتے ہیں۔ بے چارہ آدم زاد حیران رہ جاتا ہے اور کسی طرح ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ امیر، غریب، ادنی، اعلیٰ، بچے، بوڑھے ، عورت، مرد کوئی اس کے وار سے محفوظ نہیں۔ یہاں تک کہ آدمی کے پاس رہنے والے جانوروں کو بھی ان کے ہاتھ سے ایذا ہے۔ پھر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں۔ ان جانوروں نے میرے دشمن کی اطاعت کی ہے تو میں ان کو بھی مزا چکھاؤں گا۔
آدمیوں نے مچھروں کے خلاف ایجی ٹیشن کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ہر شخص اپنی سمجھ اور عقل کے موافق مچھروں پر الزام رکھ کر لوگوں میں ان کے خلاف جوش پیدا کرنا چاہتا ہے مگر مچھر اس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔
طاعون نے گڑ بڑ مچائی تو انسان نے کہا کہ طاعون، مچھر اور پسّو کے ذریعے سے پھیلتا ہے۔ ان کو فنا کر دیا جائے تو یہ ہولناک وبا دُور ہو جائے گی۔ ملیریا پھیلا تو اس کا الزام بھی مچھر پر عائد ہوا۔ اس سرے سے اُس سرے تک کالے گورے آدمی غُل مچانے لگے کہ مچھروں کو مٹا دو، مچھروں کو کچل ڈالو، مچھروں کو تہس نہس کر دو اور ایسی تدبیریں نکالیں جن سے مچھروں کی نسل ہی منقطع ہو جائے۔
مچھر بھی یہ سب باتیں دیکھ رہا تھا اور سن رہا تھا اور رات کو ڈاکٹر صاحب کی میز پر رکھے ہوئے “پانیئر” کو آکر دیکھتا اور اپنی برائی کے حروف پر بیٹھ کر اس میں خون کی ننھی ننھی بوندیں ڈال جاتا جو انسان کے جسم سے یا خود ڈاکٹر صاحب کے جسم سے چوس کر لایا تھا۔ گویا اپنے فائدے کی تحریر سے انسان کی ان تحریروں پر شو خیانہ ریمارک لکھ جاتا کہ میاں تم میرا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
انسان کہتا ہے کہ مچھر بڑا کم ذات ہے۔ کوڑے کرکٹ، میل کچیل سے پیدا ہوتا ہے اور گندی موریوں میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اور بزدلی تو دیکھو اس وقت حملہ کرتا ہے جب کہ ہم سو جاتے ہیں۔ سوتے پر وار کرنا، بے خبر کے چرکے لگانا مردانگی نہیں، انتہا درجے کی کمینگی ہے۔ صورت تو دیکھو کالا بھُتنا، لمبے لمبے پاؤں، بے ڈول چہرہ، اس شان و شوکت کا وجود آدمی جیسے گورے چٹے، خوش وضع ، پیاری ادا کی دشمنی ہے۔ بے عقلی اور جہالت اس کو کہتے ہیں۔
مچھر کی سنو تو وہ آدمی کو کھری کھری سناتا ہے اور کہتا ہے کہ جناب ہمت ہے تو مقابلہ کیجیے۔ ذات صفات نہ دیکھیے۔ میں کالا سہی، بد رونق سہی، نیچ ذات سہی مگر یہ تو کہیے کہ کسی دلیری سے آپ کا مقابلہ کرتا ہوں اور کیوں کر آپ کی ناک میں دم کرتا ہوں۔
یہ الزام سراسر غلط ہے کہ بے خبری میں آتا ہوں اور سوتے میں ستاتا ہوں۔ یہ تو تم اپنی عادت کے موافق سراسر نا انصافی کرتے ہو۔ حضرت میں تو کان میں آکر الٹی میٹم دے دیتا ہوں کہ ہوشیار ہو جاؤ، اب حملہ ہوتا ہے۔ تم ہی غافل رہو تو میرا کیا قصور۔ زمانہ خود فیصلہ کر دے گا کہ میدان جنگ میں کالا بھُتنا، لمبے لمبے پاؤں والا، بے ڈول فتح یاب ہوتا ہے یا گورا چٹا آن بان والا۔
میرے کارناموں کی شاید تم کو خبر نہیں کہ میں نے اس پردہَ دنیا پر کیا کیا جوہر دکھائے ہیں۔ اپنے بھائی نمرود کا قصّہ بھول گئے جو خدائی کا دعوی کرتا تھا اور اپنے سامنے کسی کی حقیقت نہ سمجھتا تھا۔ کس نے اس کا غرور توڑا؟ کون اس پر غالب آیا؟ کس کے سبب اس کی خدائی خاک میں ملی؟ اگر آپ نہ جانتے ہوں تو اپنے ہی کسی بھائی سے دریافت کیجیے یا مجھ سے سنیَے کہ میرے ہی ایک بھائی مچھر نے اس سرکش کا خاتمہ کیا تھا۔
اور تم تو ناحق بگڑتے ہو اور خواہ مخواہ اپنا دشمن تصّور کیے لیتے ہو۔ میں تمھارا مخالف نہیں ہوں۔ اگر تم کو یقین نہ آئے تو اپنے کسی شب بیدار صوفی بھائی سے دریافت کرلو، دیکھو وہ میری شان میں کیا کہے گا۔ کل ایک شاہ صاحب عالم ذوق میں اپنے ایک مرید سے فرمارہے تھے کہ میں مچھر کی زندگی کو دل سے پسند کرتا ہوں۔ دن بھر بے چارہ خلوت خانہ میں رہتا ہے۔ رات کو جو خدا کی یاد کا وقت ہے باہر نکلتا ہے اور پھر تمام شب تسبیح و تقدیس کے ترانے گایا کرتا ہے۔ آدمی غفلت میں پڑے سوتے ہیں تو اس کو ان پر غصہ آتا ہے۔ چاہتا ہے کہ یہ بھی بیدار ہو کر اپنے مالک کے دیے ہوئے اس سہانے خاموش وقت کی قدر کریں اور حمد و شکر کے گیت گائیں۔ اس لیے پہلے ان کے کان میں جا کر کہتا ہے۔ اُٹھو میاں اُٹھو، جاگو جاگنے کا وقت ہے۔ سونے کا اور ہمیشہ سونے کا وقت ابھی نہیں آیا۔ جب آئے گا تو بے فکر ہو کر سونا۔ اب تو ہوشیار رہنے اور کچھ کام کرنے کا موقع ہے۔ مگر انسان اس سریلی نصیحت کی پروا نہیں کرتا اور سوتا رہتا ہے تو مجبور ہو کر غصے میں آجاتا ہے اور اس کے چہرے اور ہاتھ پاؤں پر ڈنک مارتا ہے۔ پر واہ رے انسان! آنکھیں بند کیے ہوئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور بے ہوشی میں بدن کو کجھا کر پھر سو جاتا ہے۔ اور جب دن کو بیدار ہوتا ہے تو بے چارے مچھر کو صلواتیں سناتا ہے کہ رات بھر سونے نہیں دیا۔ کوئی اس دروغ گو سے پوچھے کہ جناب عالی! کے سیکنڈ جاگے تھے جو ساری رات جاگتے رہنے کا شکوہ ہورہا ہے۔
شاہ صاحب کی زبان سے یہ عارفانہ کلمات سن کر میرے دل کو بھی تسلی ہوئی کہ غنیمت ہے ان آدمیوں میں بھی انصاف والے موجود ہیں بلکہ میں دل میں شرمایا کہ کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ شاہ صاحب مُصلّے پر بیٹھے وظیفہ پڑھا کرتے ہیں اور میں ان کے پیروں کا خون پیا کرتا ہوں۔ یہ تو میری نسبت ایسی اچھی اور نیک رائے دیں اور میں ان کو تکلیف دوں۔ اگر چہ دل نے یہ سمجھایا کہ توکاٹتا تھوڑی ہے قدم چومتا ہے اور ان بزرگوں کے قدم چومنے ہی کے قابل ہوتے ہیں۔ لیکن اصل یہ ہے کہ اس سے میری ندامت دور نہیں ہوتی اور اب تک میرے دل میں اس کا افسوس باقی ہے۔
