ساقی نامہ-علامہ اقبال
تعارف نظم
ساقی نامہ علامہ اقبال کی ایک دِلکش نظم ہے۔ اس نظم میں کُل سات بند ہیں۔ پہلے بند میں بہار کے آنے کی خوش خبری سنائی گئی ہے اور موسمِ بہار کے دلکش مناظر کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ دوسرے بند میں آزادی سے پہلے کے حالات بیان کئے ہیں اور مسلمانوں کی خستہ حالی کا ذکر کیا گیا ہے۔ تیسرے بند میں نوجوانان اسلام کے لیے دُعا کی گئی ہے۔ چوتھے اور پانچویں بند میں زندگی کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چھٹے اور ساتویں بند میں خودی کا مفہوم واضح کیا گیا ہے اور اِس کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ ساتویں بند کے آخری حصے میں مِلّت کے نوجوان کو مسافر کہہ کر خطاب کیا گیا ہے کیونکہ وہ عرفانِ ذات کی منازل طے کرتے ہے۔ نیز وہ تدبیریں بتائی گئی ہیں جو اِس راہ میں زادِ سفر (سفر کے راستے کا سامان) کا کام دیتی ہیں اور راہی کو منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہیں۔
1. پہلا بند (ہوا خیمہ زن…)
2. دوسرا بند (زمانے کے انداز…)
3. تیسرا بند (شراب کہن پھر…)
4. چوتھا بند (دما دم رواں ہے…)
5. پانچواں بند (فریب نظر ہے…)
6. چھٹا بند (یہ موج نفس کیا ہے…)
7. ساتواں بند (خودی کے نگہباں…)
(واپس جائے) پہلا بند
|
ہُوا خیمہ زن کاروان بہار! اِرَم بن گیا دامن کوہسار حوالہ:مندرجہ بالا بند نظم “ساقی نامہ” سے لیا گیا ہے جس کے شاعر علامہ اقبال ہیں انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے قوم کو جگایا ہے۔ تشریح:علامہ اقبال اس شعر میں فرماتے ہیں کہ موسم بہار کی آمد آمد ہے اور پہاڑوں کے دامن میں اس طرح سے رنگ برنگے پھول نشو و نما پا رہے۔ ایسے لگتا ہے پہاڑوں کے درمیاں کی جگہ جنت کا ٹکڑا بن گئی ہو۔ |
1 |
||
|
گل و نرگس و سوسن و نسترن! شہید ازل لالہ خونیں کفن! تشریح:موسمِ بہار کے باعث رنگ رنگ کے پھول، گلاب، نرگس، سوسن اور نسترن کھلنے لگے ہیں اور لالہ کا پھول، جو شہیدِ ازل ہے۔ وہ خونیں کفن پہنے ہوئے ہے۔ (لالہ کا رنگ سرخ ہوتا ہے، اس لیے خونیں کفن کہا جاتا ہے) |
2 |
||
|
جہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میں لہو کی ہے گردش رگ سنگ میں تشریح:ساری کائنات انہی رنگارنگ پھولوں میں چھپ کر رہ گئی ہے۔ ان کے حسن نے اس کو مسرورو مسحور کر دیا ہے۔ عمارات پر بھی نظر ڈالئے تو ان پر بھی ان پھولوں کے رنگ یوں جگمگا رہے ہیں جیسے ان میں لگے ہوئے پتھروں کی رگ رگ میں سرخ رنگ لہو گردش کر رہا ہو۔ مراد یہ ہے کہ بہار کے پھولوں نے چار سو رنگ و نور پھیلا رکھا ہے۔ |
3 |
||
|
فضا نیلی نیلی ہوا میں سرور ٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیور تشریح:اس منظر سے ساری فضا رنگ برنگی ہو کر رہ گئی ہے۔ پھولوں کی مہک اور عطر بیز ہوائیں دل و نظر کو سرور بخش رہی ہیں۔ انسان تو انسان، پرندے تک جھومتے جھامتے اپنے آشیانوں سے باہر نکل کر اس کیفیت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ |
4 |
||
|
وہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئی اٹکتی لچکتی سرکتی ہوئی تشریح:موسم بہار محض عام فضاء پر ہی اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ پہاڑ اور دریا بھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں چنانچہ پہاڑوں میں سے بر آمد ہونے والے ندی نالوں کا یہ عالم ہے کہ بھی تو وہ دھیرے دھیرے اور خراماں خراماں رواں دواں ہوتے ہیں اور کبھی رکتے ہوئے اور سرسراتے ہوئے گزر رہے ہیں۔ |
5 |
||
|
اچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئی بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی تشریح:گردو پیش کی فضاء سے یہ ندی نالے بھی اس طرح مسحور ہو رہے ہیں کہ کبھی جوش مسرت سے اچھل پڑتے ہیں اور ان کی روانی میں تیزی آجاتی ہے۔ یہ ندی نالے تمام پر پیچ راستوں سے بل کھاتے ہوئے گزر رہے ہیں۔ |
6 |
||
|
رُکے جب تو سِل چیر دیتی ہے یہ پہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہ تشریح:دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی تیز روانی کے سبب جب ان ندی نالوں کی راہ میں کوئی پتھر آجائے تو ان کو ریزہ ریزہ کر ڈالتے ہیں۔ اس لمحے یوں لگتا ہے جیسے وہ پہاڑوں کے دل چیر رہے ہوں۔ |
7 |
||
|
ذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فام سناتی ہے یہ زندگی کا پیام تشریح:علامہ اقبال اپنے ساقی (اپنے رب) سے مخاطب ہیں اور ان کو ان کی اپنی تخلیق کردہ کائنات میں ہونے والی تبدیلیوں کا نظارہ کروانے کی درخواست دے رہے ہیں کہ کائنات کے خالق آپ کی تخلیق کردہ دنیا میں بدلتے موسموں اور پر کشش نظاروں سے زندگی چیخ چیخ کے اپنے وجود کا اعلان کر رہی ہے اور سب کو حرکت کا پیغام دے رہی ہے۔ “ساقی لالہ فام” کے لغوی معنی سرخ رنگ کی شراب پلانے والا ہے۔ یہاں ساقی سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور شراب (لالہ فام) استعارہ ہے عشق حقیقی اور شعور کی بالا دستی کا۔“ |
8 |
||
|
پلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوز کہ آتی نہیں فصل گل روز روز! تشریح:اے ساقی! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پھولوں اور بہار کے موسم کا مخصوص وقت ہوتا ہے۔ روز روز ان کی آمد ممکن نہیں! لہذا اس سے حقیقی طور پر لطف اندوز ہونے کے لئے یہ امر نا گزیر ہے کہ تو مجھے ایسا نشہ آور مشروب دے جو اس پردے کو جلا کر خاک کر دے کہ جو میرے اور تیرے درمیان حائل ہیں۔ |
9 |
||
|
وہ مے جس سے روشن ضمیر حیات وہ مے جس سے ہے مستی کائنات تشریح:مجھے وہ نشہ پلا جو ضمیر حیات کی روشنی اور تازگی بخشتا ہے اور جس کے سرور سے ساری کائنات وجد میں آجاتی ہے۔ |
10 |
||
|
وہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازل وہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازل تشریح:ایسا نشہ جو آغاز کائنات کے سوز و ساز سے عبارت ہے۔ یہی نہیں بلکہ عشق حقیقی کے حوالے سے آغاز کائنات کے بھید کھولنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ |
11 |
||
|
اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے! لڑا دے ممولے کو شہباز سے تشریح:اور اے ساقی! مجھے ایسی شراب پلا کہ راز عشق سے پردہ اٹھ جائے اور مجھ جیسا کمزور و ناتواں شخص بھی اپنے انتہائی طاقتور دشمن سے اس طرح مقابلہ کر سکے جس طرح کہ ایک ننھی چڑیا عقاب کے مقابلے پر سر دھڑ کی بازی لگا دے۔ |
12 |
||
(واپس جائے) دوسرابند
|
زمانے کے انداز بدلے گئے نیا راگ ہے ساز بدلے گئے :تشریحعلامہ اقبال عالمی سطح کی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے افکار و تجربات کی روشنی میں بیان فرماتے ہیں کہ آج کا عہد عالمی تبدیلیوں کی زد میں ہے ۔ جیسے نئے راگ اور نئے سازوں سے کام لے کر موسیقار کسی گیت کے لیے نئی دھن ترتیب دیتا ہے اسی طرح معاشرتی سطح پر تمام دنیا میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ |
1 |
|
ہوا اس طرح فاش راز فرنگ کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ :تشریحان عالمی تبدیلیوں کے سبب ساری دنیا کو اب اس حقیقت کا علم ہو چکا ہے کہ کس طرح یورپ اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لیے دوسرے ممالک کا عیاری اور مکاری کے ساتھ استحصال کرتا ہے ۔ اس راز کے اچانک افشاء ہونے سے خود استعمار پسند یورپی ممالک حیرت زدہ ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ان کے لیے یہ امر انتہائی پریشان کُن ہے کہ ان کے زیر اقتدار ملک بھی اس عیاری اور مکاری سے آگاہ ہو گئے ہیں۔ |
2 |
|
پرانی سیاست گری خوار ہے زمیں میر و سلطاں سے بے زار ہے :تشریحزمانے کے بدلتے ہوئے حالات میں صورت حال یہ ہے کہ سیاست کے پرانے طریقے ناکارہ اور ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے ہیں اور پوری دنیا میر و سلطان کی آمریت سے بیزار ہو چکی ہے ۔ اب کوئی بھی اس فرسودہ نظام کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ |
3 |
|
گیا دور سرمایہ داری گیا تماشا دکھا کر مداری گیا :تشریحان بدلتے ہوئے حالات کے بدولت سب اس حقیقت سے آشنا ہو چکے ہیں کہ سرمایہ داری کا استحصالی نظام کا وقت اب ختم ہو چکا ہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے مداری کی جو کرتب دکھاتا ہے اور تماشائیوں سے اس کا معاوضہ وصول کر کے اپنی راہ لیتا ہے ۔ اسی طرح سے سرمایہ داری نظام نے بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ لیا ہے |
4 |
|
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے :تشریحچین کی سوئی ہوئی قوم بھی اب جاگنے لگی ہے۔ چین کو مغرب نے اپنے مفادات کے لیے منشیات کا عادی بنا دیا تھا اور اسی بُری عادت کی وجہ سے وہ ناکارہ ہو کر رہ گئے تھے ۔ اب چینی قوم شعوری سطح پر بیدار ہونے لگی ہے اور اپنے حقوق کے حصول کی خاطر مغرب کے خلاف نبرد آزمائی کے لیے تیار ہو رہی ہے ۔ یہی کیفیت ہمالیہ کے نواحی علاقہ جات کی ہے ۔ یعنی ہندوستان اور آس پاس کے ممالک میں بھی استعماریت سے آزادی کی لہریں اٹھ رہی ہیں ۔ |
5 |
|
دل طور سینا و فاران دو نیم تجلی کا پھر منتظر ہے کلیم :تشریحملت اسلامیہ کے انحطاط و زوال پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ اقبال بڑی دل سوزی کے ساتھ فرماتے ہیں کہ عالمی سطح پر انقلابی تبدیلیوں کے باوجود ملت مسلمہ شعوری سطح پر انحطاط سے دوچار ہے اور خود کسی قسم کی عملی جدوجہد سے گریزاں ہے۔جس طرح کوہ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فاران کی چوٹی پر حضرت محمد سرور کائنات نے معجز نمائی کی آج بھی پوری ملت اسلامیہ اس طرح کے معجزوں کے انتطار میں ہے۔ |
6 |
|
مسلماں ہے توحید میں گرم جوش مگر دل ابھی تک ہے زُنّار پوش :تشریحبظاہر آج کا مسلمان توحید الہٰی کے ضمن میں بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتا ہے مگر حقیقت میں اس کا دل آج بھی زُنّار یعنی ہندوں کے گلے میں ڈالنے والے دھاگے سے جھکڑا ہوا ہے۔ یعنی غلامی کے دور میں اس کے عقائد میں جس طرح سے ردوبدل ہوا آج بھی وہ اس کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ |
7 |
|
تمدن تصوف شریعت کلام بتان عجم کے پجاری تمام :تشریحمسلمانوں کے طرز معاشرت، تصوّف، شریعت، علم کلام غرضیکہ ان کی اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کے نظریات کی بجائے غیر اسلامی افکار و اطوار کی آمیزش ہوگئی ہے۔ |
8 |
|
حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ امت روایات میں کھو گئی تشریح:اسلام کے حقیقی تعلیمات سے دوری کا یہ نتیجہ نکلا کہ اسلام کی حقانیت اور صداقت، فضول اور لغو معاملات کے پردوں میں چھپ گئی اور پوری ملت اسلامیہ جو انقلابی نظریات کی آئینہ دار تھی توہمی روایات میں کھو گئی. |
9 |
|
لبھاتا ہے دل کو کلام خطیب مگر لذت شوق سے بے نصیب :تشریحاس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان خطیبوں کی تقریریں بہت دِل پذیر ہوتی ہیں اور سننے والوں کے دل کو تو لبھا لیتی ہے مگر ان کے سینے عشقِ حقیقی سے بالکل خالی ہوتے ہیں اور ان تقریروں میں وہ چاشنی موجود نہیں ہوتی جو قلب و روح کو منور کرے۔ |
10 |
|
بیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوا لغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا :تشریحواعظوں اور خطیبوں کی تقریریں اور ان کے وعظ فلسفیانہ باتوں اور زور دار الفاظ سے بھری ہوتی ہیں۔ لیکن وہ جو مشکل اور پرشوکت الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں وہ بالعموم عام سامع کی سمجھ سے باہر ہوتی ہے ۔ اس صورت میں یہ تقریریں بے اثر ہوتی ہیں۔ یعنی کہ ان تقریریں فلسفیانہ باتوں اور زور دار الفاظ سے بھری تو ہوتی ہیں جن سے وہ اپنے سننے والےکو مرعوب کرتے ہیں۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ |
11 |
|
وہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مرد محبت میں یکتا حمیت میں فرد :تشریحوہ صوفیائے کرام کہ جو کبھی حق و صداقت کی نشر و اشاعت میں بڑی جد و جہد کیا کرتے تھے اور خدائے ذوالجلال اور اس کی وضع کردہ حقیقتوں پر جان نثار کرنے کے لیے آمادہ ہوتے تھے۔ اُن کے دل میں خدا کے بندوں سے بھی بے پناہ جذبہ محبت ہوتی تھی اور غیرت مندی اور خود داری اس کے کردار کی بنیادی خصوصیت ہوتی تھی ۔ لیکن اب تو کیفیت ہی مختلف ہے۔ |
12 |
|
عجم کے خیالات میں کھو گیا یہ سالک مقامات میں کھو گیا :تشریحآج کی صورت حال تو یہ ہے کہ وہی صوفیا زیادہ تر عجمی (غیر اسلامی) خیالات کی پیروی کرتے ہیں اور اب وہ غیر اسلامی اور غیر حقیقی روایات میں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ خُدا کا طالب (سالک) مقامات (روحانی منازل) میں کھو گیا یعنی اصل مقام (اللہ تعالی) کو بھلا کر، راستے میں آنے والے مقامات تک ہی محدود ہوگیا اور اصل مقصد کو بھلا بیٹھا ہے۔ |
13 |
|
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے :تشریحغیر اسلامی عقائد و افکار کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے دلوں میں عشق حقیقی کا جو شعلہ روشن تھا وہ بجھ چکا ہے اور اقبال موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو راکھ کے ڈھیر سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عملاً ملت اسلامیہ راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئی ہے |
14 |
(واپس جائے) تیسرابند
| شراب کہن پھر پلا ساقیا وہی جام گردش میں لا ساقیا :تشریحاس شعر میں علامہ اقبال اللہ تعالی سے درخواست کرتے ہیں کہ خداوندا! مجھے پھر وہی پرانی شراب پلا جو تُو نے ہم مسلمانوں کے آباو اجداد کو پلائی تھی۔ یعنی مجھے ایک بار پھر عشق محمد مصطفی کی دولت سے نواز دے اور یہی قیامت تک میرا سرمایہ حیات اور جزو ایمان رہے۔ |
1 |
| مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا مری خاک جگنو بنا کر اڑا :تشریحخداوند! مجھے عشقِ حقیقی کے پر عطا فرما تاکہ میں عشق کی فضا میں بلند پرواز کر سکوں ۔ مطلب یہ کہ حقیقت کی معراج میرے قلب و روح کا سرمایہ ہو۔ اور میری وجود میں ایسی کیفیت پیدا فرما کہ میرے وجود کا ہر ذرہ جگنو کی طرح منور ہوکر پرواز کر سکے۔ |
2 |
| خرد کو غلامی سے آزاد کر جوانوں کو پیروں کا استاد کر :تشریحاے ربّ کائنات! امّت کے ذہنوں کو غلامی سے آزاد فرما دے اور ان میں انقلاب برپا کر دے. یعنی آج کے مسلمانوں کے ذہن غیروں کی غلامی سے نکلیں۔ اور جو مسلمان نوجوان ہیں وہ دینی اور انسانی سطح پر اپنے (پیروں) بُزرگوں سے بھی آگے نکل جائیں۔ |
3 |
| ہری شاخ ملت ترے نم سے ہے نفس اس بدن میں ترے دم سے ہے :تشریحملتِ اسلامیہ کی شاخ کو دیکھا جائے تو تیری عنایات کے طفیل ہی تر و تازہ ہے اور اس ملّت کے بدن میں جو سانس ہے، تیرے ہی لطف و کرم سے ہے۔ گویا اسلام کا باغ تیرے ہی بدولت سرسبز ہے اور اور تیرے ہی لطف و کرم کے سبب تمام تر مشکلات کے باوجود ملت زندہ ہے۔ |
4 |
| تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے دل مرتضی سوز صدیق دے :تشریحاے خدا! مجھے اتنی توفیق عطا فرما کہ اپنی منزل تک رسائی کے لیے عملی جدوجہد سے کام لے سکوں ۔ اس مقصد کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جیسا جرأت ، ہمت اور حوصلہ سے بھرپور دل عطا ہو اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے جیسا سوز و گداز حاصل ہو ۔ |
5 |
| جگر سے وہی تیر پھر پار کر تمنا کو سینوں میں بیدار کر :تشریحاے مولائے کائنات! ملت میں اسلام کے اصل تعلیمات پر عمل کرنے کا جذبہ پھر سے پیدا فرما دے۔ اور اس منزل تک رسائی کے جذبوں کو سب مسلمانوں کے دِلوں میں جگا دے۔ |
6 |
| ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر :تشریحاس شعر میں علامہ اقبال دُعا فرماتے ہیں کہ یا الہی! تیرے آسمانوں کے ستارے ہمیشہ سلامت رہیں اور دنیا کے وہ لوگ جو راتوں کو جاگ کر تیری عبادت کرتے ہیں، وہ بھی زندہ و سلامت رہیں۔ |
7 |
| جوانوں کو سوز جگر بخش دے مرا عشق میری نظر بخش دے :تشریحعلامہ اقبال دُعا فرماتے ہیں کہ یا الہٰی! مسلمان جوانوں کو عشق حقیقی سے آشنا کر اور میری ہی طرح ان کو عشق حقیقی کا پرستار بنادیں اور جیسے میری نظریں نور حقیقی سے منور ہیں ویسے ہی ان جوانوں نظروں کو منور کر دے۔ |
8 |
| مری ناؤ گرداب سے پار کر یہ ثابت ہے تو اس کو سیار کر :تشریحعلامہ اقبال دُعا فرماتے ہیں کہ یا الہٰی! میری قوم کی کشتی بھنوَر میں پھنس گئی ہے اور یہ ایک جگہ رُکی ہوئی ہے، اس میں حرکت پیدا کردے اور اس کو صحیح و سلامت ساحلِ مقصود تک پہنچا دے۔ اقبال کا اشارہ مِلت کی طرف ہے جن کی ترقی بے عملی اور جدوجہد سے عاری ہونے کے باعث رُکی ہوئی ہے۔ اسلیے دعا فرماتے ہیں کہ ملّت اسلام کی تعلیمات پر عمل کرے اور پھر سے اپنی کھوئی ہوئی عظمت و بلندی حاصل کر سکے۔ |
9 |
| بتا مجھ کو اسرار مرگ و حیات کہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات :تشریحاے خدا! مجھے زندگی اور موت کے بھیدوں کا علم بخش دے اور ان سے باخبر فرما۔ کیوں کہ تو ہی علیم ہے جو ظاہر اور پوشیدہ کو جاننے والا ہے اور صرف تیری ذاتِ اقدس ہی ہے کہ جو کائنات کے تمام رازوں سے باخبر ہے۔ |
10 |
| مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں مرے دل کی پوشیدہ بیتابیاں :تشریحاقبال امّت مسلمہ کے مصائب اور پستی و زوال پر فرماتے ہیں کہ ملت کی یہ حالت میری اشکبار آنکھوں کو شب بھر بیدار رکھتی ہے اور میرا دل خون کے آنسو روتا رہتا ہے۔ لیکن میرے دل کی ان بےتابیوں سے کوئی واقف نہیں۔ |
11 |
| مرے نالۂ نیم شب کا نیاز مری خلوت و انجمن کا گداز :تشریحاے ربّ کائنات! میں تیری بارگاہ میں نصف شب کے وقت فریاد میں مصروف رہتا ہوں ۔ میں تنہائی میں رہوں یا کسی محفل میں ہر لمحے میرا قلب اسی حالت فریاد میں رہتا ہے ۔ |
12 |
| امنگیں مری آرزوئیں مری امیدیں مری جستجوئیں مری :تشریحاے میرے مولا! میری تمام تمنائیں اور آرزوئیں پوری امّت کی ترجمانی کرتے ہیں اور صرف میری ذات تک ہی محدود نہیں ہیں۔ میں اپنی امت کے لئے بہتری کی اُمید رکھتا ہوں اور اس کے لئے جستجو کرتا رہتا ہوں۔ |
13 |
| مری فطرت آئینۂ روزگار غزالان افکار کا مرغزار :تشریحمیں فطرتاً کائنات کے حقائق جاننے میں مصروف رہتا ہوں اور دنیا کی حقیقت سے باخبر رہتا ہوں۔ میرا ذہن بلند و پاکیزہ خیالات کا خزینہ ہے جہاں انسان اور معاشرے کی بہبودی کے لیے جذبات موجزن رہتے ہیں۔ |
14 |
| مرا دل مری رزم گاہ حیات گمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات :تشریحمیرا دل ہی میری زندگی کا میدانِ جنگ ہے، جہاں ہر لمحے نیک و بد میں تصادم رہتا ہے۔ میرے دل میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کی کثرت بھی ہے اور یہی دل پُختہ یقین کا مرکز بھی ہے۔ |
15 |
| یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر :تشریحاے ساقی! میں تو ایک فقیر و درویش ہوں اور تُو نے میری ذات میں جو خصوصیات پیدا کی ہیں یہی میرا سرمایہ ہے۔ فقیری کی یہی خصوصیات مجھے امیری کا لطف دے رہے ہیں۔ |
16 |
| مرے قافلے میں لٹا دے اسے لٹا دے ٹھکانے لگا دے اسے :تشریحاے ساقی! تُو جانتا ہے ان اشعار میں جو اسرار و رموز بیان کیے گئے ہیں،وہ میرے ملت کے لیے کس قدر کار آمد ہیں۔ اے ساقی!میں چاہتا ہوں کہ ان جذبات اور کیفیاتِ سوز و گداز کو عام کر لے اور ملتِ مسلمہ کے سینوں میں بھی داخل کردے تاکہ میری قوم کے افراد میں عشق و محبت کا وہی رنگ پیدا ہوسکے جو میرے اندر موجود ہے۔ |
17 |
(واپس جائے) چوتھابند
| دما دم رواں ہے یم زندگی ہر اک شے سے پیدا رم زندگی :تشریحاس شعر میں علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ زندگی کا دریا لگاتار بہتا جارہا ہے۔ کاروبار زندگی ہر لمحے جاری و ساری ہے۔ ہر ایک شے میں نہ رکنے والا ارتقائی عمل جاری ہے جو زندگی اور تمام کائنات کے ترقی پذیر ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ |
1 |
| اسی سے ہوئی ہے بدن کی نمود کہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دود :تشریحجس طرح سے آگ کے شعلے میں دھوئیں کی لہر چھپی ہوتی ہے اسی طرح اصل شے روح حیات ہے جو انسانی جسم میں چھپا ہوا ہوتا ہے اور یہی روح ہی ہے جو اس جسم کو وجود عطا کر کے اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے۔ |
2 |
| گراں گرچہ ہے صحبت آب و گِل خوش آئی اسے محنت آب و گِل :تشریحہر چند کہ انسان کو پانی اور مٹی کی صحبت ناگوارا لگتی ہے لیکن جب زندگی ایک دفعہ پانی اور مٹی کے گارے میں گُندھ گئی تو اُس کے بعد جدوجہد اور ارتقاء کا عمل اسے بہت کامیاب اور بامراد لگنے لگتا ہے۔ |
3 |
| یہ ثابت بھی ہے اور سیار بھی عناصر کے پھندوں سے بے زار بھی :تشریحزندگی متضاد خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ جامد (ثابت) بھی ہے اور متحرک (سیّار) بھی۔ یہ زندگی جمادات میں رُکی اور ٹھہری ہوئی نظر آتی ہے اور نباتات و حیوانات میں متحرک ہوتی ہے۔ یہ زندگی چار عناصر کے پھندے میں جکڑی ہوئی بھی ہے اور اس پر حملہ آور ہونے والی بیماریوں، بوسیدگیوں اور موت کے پھندوں سے ناخوش اور خفا بھی نظر آتی ہے |
4 |
| یہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیر مگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیر :تشریحزندگی حقیقت کے اعتبار سے(وحدت) ایک ہی ہے مگر ظاہری طور پر خود کو کثرت میں تقسیم کرلیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر شے اور اس کا منظر جدا جدا اور ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ زندگی بے شمار جسموں اور شکلوں میں ظہور پذیر ہوگئی جس کا نقطہ عروج انسان ہے۔ زندگی کا ہر نظّارہ دوسرے سے وضع قطع میں جداگانہ ہوتا ہے اور ایک کی مثال کسی دوسرے میں نظر نہیں آتی۔ |
5 |
| یہ عالم یہ بت خانۂ شش جہات اسی نے تراشا ہے یہ سومنات :تشریحیہ کائنات جو چھ سمتوں والے بُت کدے کی مانند ہے زندگی کی وجہ سے ہی وجود میں آئی ہے۔ کیوں کہ زندگی نے ظاہر ہونا چا تو اس نے سومناتی کائنات کو تخلیق کیا۔ اس شعر میں علامہ اقبال نے اس کائنات کو ”سومنات“ سے تعبیر کیا ہے۔ سومنات دراصل اس بت کا نام تھا جو کاٹھیاواڑ کے ایک مشہور تیرتھ موسومہ پٹن کے مندر میں نصب تھا۔ |
6 |
| پسند اس کو تکرار کی خو نہیں کہ تو میں نہیں اور میں تو نہیں :تشریحاس کائنات کی خوبی یہ ہے کہ اس کو تکرار کو پسند نہیں یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی منفرد ہے اور ایک فرد کی شبیہ کسی دوسرے سے نہیں ملتی ۔ یہ ایک حیرت انگیز امر ہے کہ ہر فرد دوسرے سے عملاً مختلف ہے اور یہ کہ ہم سب ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں اور تُو میں نہیں، اور میں تُو نہیں۔ |
7 |
| من و تو سے ہے انجمن آفریں مگر عین محفل میں خلوت نشیں :تشریحزندگی مجھے اور تُمہیں اکٹھا کر کے محفل تو سجا لیتی ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ عین محفل وہ تنہائی کے کرب میں مبتلا رہتی ہے مگر ہر کسی کو یہ تنہائی دکھائی نہیں دیتی۔ |
8 |
| چمک اس کی بجلی میں تارے میں ہے یہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہے :تشریحاگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو ہمیں زندگی کے کئی روپ نظر آتے ہیں۔ اس کی جھلک کبھی بجلی اور کبھی ستاروں کی چمک میں نظر آتی ہے اور یہ کبھی چاندی، سونے اور پارے میں اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ غرض یہ کہ اس کے مظاہر ہر جگہ مختلف صورتیں میں موجود ہوتے ہیں۔ |
9 |
| اسی کے بیاباں اسی کے ببول اسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھول :تشریحیہ بیاباں، اور یہ کیکر کے درخت اور یہ کانٹے اور پھول۔ ان سب کا وجود زندگی ہی کی بدولت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی ہی کی بدولت صحرا، اس کے درخت، اس کے کانٹے اور اس کے پھول ارتقا پاتے ہیں ۔ |
10 |
| کہیں اس کی طاقت سے کہسار چور کہیں اس کے پھندے میں جبریل و حور :تشریحزندگی میں اس قدرطاقت اور مضبوطی ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دے۔ اور اس کی طاقت جبرئیل علیہ السلام جیسا فرشتے کو اور جنت کے حوروں کو بھی اپنے جال میں پھانسنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ |
11 |
| کہیں جُرّہ شاہین سیماب رنگ لہو سے چکوروں کے آلودہ چنگ :تشریحزندگی کا ایک رنگ یہ بھی ہے کہ پارے کے رنگ کا طاقتور نر شاہین جس طرح سے کمزور چکوروں پر جھپٹ کر اُن کے لہو سے اپنے پنجے بھر لیتا ہے۔ اسی طرح طاقتور کمزوروں کو اپنا نشانہ بناتا ہے چاہے وہ کوئی طاقتور ملک ہو یا طاقتور انسان اپنی قوت کے بل پر کمزوروں پر غلبہ پالیتا ہے یا اپنا تسلط جما لیتا ہے۔ |
12 |
| کبوتر کہیں آشیانے سے دور پھڑکتا ہوا جال میں ناصبور :تشریحکہیں زندگی اس رنگ میں جلوہ گر ہوتی ہے ہے کہ شکاری اپنا جال بچھاتا ہے اور کوئی کبوتر اپنے گھر سے دور شکاری کے جال میں پھنس جاتا ہے اور بڑی بے صبری سے تڑپتا ہے۔ یعنی زندگی ہی وہ قوت ہے جو اپنی ذہانت سے حریفوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی اہل ہوتی ہے۔ |
13 |
(واپس جائے) پانچواں بند
| فریب نظر ہے سکون و ثبات تڑپتا ہے ہر ذرۂ کائنات :تشریحعلامہ اقبال کی فکر و نظر میں ٹھہرنا اور ایک جگہ قائم رہنا نظر کا دھوکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کائنات کا ہر ذرّہ ہمیشہ حرکت میں ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس کائنات کی کوئی بھی شے جامد نہیں، بلکہ حرکت کررہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ظاہر کی آنکھ اس حرکت کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ |
1 |
| ٹھہرتا نہیں کاروان وجود کہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجود :تشریحعلامہ اقبال فرماتے ہیں کہ انسانی وجود کا قافلہ ہر لمحے متحرک رہتا ہے۔ اسے کسی ایک جگہ قرار نہیں ملتا۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر دم نیا اور تازہ رہتا ہے۔ مطلب یہ کہ انسانی وجود ہر وقت نئے نئے رنگ بدلتا ہے اور گوناگوں جلوے دکھاتا رہتا ہے۔ |
2 |
| سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی فقط ذوق پرواز ہے زندگی :تشریحعلامہ اقبال اس شعر میں فرماتے ہیں کہ حیرت ہے کہ تو زندگی کو ایک ایسا راز تصور کرتا ہے جس کو سمجھا نہیں جا سکتا۔ یلیکن عقل والے جانتے ہیں کہ زندگی درحقیقت پرواز کی لذت کا دوسر نام ہے۔ یعنی زندگی ہر وقت ارتقائی منازل طے کرتی رہتی ہے اور ہمیشہ عروج کی بلندیوں پر چڑھتی جاتی ہے۔ |
3 |
| بہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلند سفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند :تشریحزندگی بے شمار بلندیوں اور پستیوں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ اس کو منزل تک رسائی کی نسبت مسلسل سفر میں رہنا زیادہ پسند ہے۔ وہ کسی منزل پر رکنے کا نام نہیں لیتی بلکہ ہمیشہ متحرک رہتی ہے یعنی زندگی ہر وقت ارتقائی منازل طے کرتی رہتی ہے۔ شاید اسی لگاتار حرکت میں ہی زندگی کا وجود اور بقا موجود ہے۔ |
4 |
| سفر زندگی کے لیے برگ و ساز سفر ہے حقیقت حضر ہے مجاز :تشریحمسلسل سفر ہی زندگی کا اصل سازو سامان ہے اور سفر ہی حقیقت ہے جبکہ ٹھہراو محض ایک دھوکا ہے اور یقینی موت ہے۔ مطلب یہ کہ سفر ہی زندگی کو متحرک اور برسر عمل رکھتی ہے۔ جو اقوم اپنی اصلاح یا بہتری کا سفر روک دے ان میں ترقی رک جاتی ہے۔ جو اقوام یا افراد دوسروں کے رحم و کرم پر پڑے رہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ |
5 |
| اُلجھ کر سلجھنے میں لذّت اسے تڑپنے پھڑکنے میں راحت اسے :تشریحجب زندگی آفتوں اور مصیبتوں میں گھِر جاتی ہے تو وہ ان آفتوں کو کمال مہارت سے مقابلہ ہی نہیں کرتی ہے بلکہ ان کا حل تلاش کرنے میں اس کو لطف آتا ہے۔ ہنگامہ خیزی اور کشمکش جیسے عوامل زندگی کے لیے باعث سکون ہوتے ہیں۔ زندگی ان ارتقائی منازل کو کبھی طے نہ کرتی اگر یہ رستے میں آنے والی رکاوٹوں اور مشکلوں کا بہادرانہ مقابلہ کرکے ان پر غلبہ حاصل نہ کرتی۔ |
6 |
| ہوا جب اسے سامنا موت کا کٹھن تھا بڑا تھامنا موت کا :تشریحاقبال کے بقول کائنات میں زندگی کی سب سے بڑی دشمن یا مخالف موت تھی۔ کوئی شک نہیں کہ موت سے اس کا مقابلہ بڑا سخت تھا۔ لیکن اس کے باوجود زندگی اپنی مخفی قوتوں کی بدولت موت پر غالب آگئی۔ زندگی حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتے ہوئے اپنے سلسلے کو قائم و دائم رکھا جو آج بھی قائم ہے۔ لہٰذا بالاخر زندگی نے موت کو شکست سے ہم کنار کر دیا۔ |
7 |
| اتر کر جہان مکافات میں رہی زندگی موت کی گھات میں :تشریحاقبال فرماتے ہیں کہ جزا اور سزا کی اس دُنیا میں موت بظاہر زندگی کا اختتام کرتی ہے۔ لیکن زندگی ہمیشہ اپنی حیرت انگیز اور مسخّر کرنے والی قوت سے ایک نئی صورت میں جلوہ گر ہو کر ظاہر ہوجاتی ہے اور یوں زندگی کبھی ہار نہیں مانتی اور موت کے تعاقب میں رہتی ہے۔ |
8 |
| مذاق دوئی سے بنی زوج زوج اٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوج :تشریحخدا کے پر چیز کا جوڑا بنانے کی صفت نے زندگی کو جنگلوں اور پہاڑوں سے بے شمار انواع اقسام کی مخلوق کو تخلیق کیا۔ اور زندگی فطرت کے اسی امتزاج کے سبب ہر جگہ، ہر رنگ اور ہر شکل سے ظاہر ہوئی۔ |
9 |
| گل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہے اسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہے :تشریحاقبال فرماتے ہیں کہ جس طرح کسی پودے کی شاخ سے ایک طرف پھول ٹوٹ کر گر جاتے ہیں اور دوسری طرف اسی شاخ سے نئے پھول پھوٹتے ہیں اسی طرح زندگی کا بھی یہی طریق ہے کہ اس کا سلسلہ بھی کبھی رکتا نہیں۔ یہ ایک ہاتھ سے دیتی ہے تو دوسرے ہاتھ سے لیتی ہے۔ |
10 |
| سمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثبات ابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیات :تشریحاس شعر میں علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ علم الحیات سے ناواقف نادان اور احمق لوگ سمجھتے ہیں کہ زندگی ناپائیدار اور فانی ہے۔ ان کو اس بات کا ادراک نہیں کہ زندگی تو ایسا نقش ہے جو مٹ مٹ کر ابھرتا ہے۔ زندگی کی ادنی صورتیں مِٹ جاتی ہیں اور اس سے اعلی صورتیں نمودار ہو جاتی ہیں۔ |
11 |
| بڑی تیز جولاں بڑی زود رس ازل سے ابد تک رم یک نفس :تشریحاس شعر میں علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ زندگی کی رو بڑی تیز ہے۔ یہ بڑی تیزی سے اپنی مطلوبہ منزل تک رسائی حاصل کرلیتی ہے۔ یہ تو ایسی حقیقت ہے جو اپنی پہلی سانس سے ہی اپنے وجود کا ثبوت پیش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔ |
12 |
| زمانہ کہ زنجیر ایام ہے دموں کے الٹ پھیر کا نام ہے :تشریحزمانہ زنجیر ایام یعنی دنوں، مہینوں، اور سالوں کے باہمی تسلسل کا نام ہے۔ یہ زمانہ سانسوں کے آنے جانے کا نام ہے۔ گویا زمانہ زندگی کے رواں دواں اور متحرک ہونے کی ایک صورت ہے۔
|
13 |
(واپس جائے) چھٹابند
| یہ موج نفس کیا ہے تلوار ہے خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے :تشریحدرجہ بالا بند میں شاعر جناب علامہ محمد اقبال نے خودی کی بات کی ہے۔ اگر انسان کے سانس کو ایک تلوار تصور کر لیا جائے تو پھر خودی کو اس تلوار کی دھار سمجھ لینا چاہیے اور اس حقیقت کی وضاحت کی زیادہ ضرورت بھی نہیں ہے کہ دھار کے بغیر تلوار کند اور بے مصرف ہو کر رہ جاتی ہے ۔ اس شعر سے مراد یہ ہے کہ خودی ہی دراصل روح حیات ہے اس کے بغیر زندگی کی کوئی وقعت نہیں ہے ۔ |
1 |
| خودی کیا ہے راز درون حیات خودی کیا ہے بیداری کائنات :تشریحاس شعر میں علامہ اقبال خودی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خودی زندگی کا چھُپا ہوا بھید ہے جسے زندگی نے محفوظ اور پوشیدہ رکھا ہوا ہے اور یہ خودی ہی پوری کائنات کو بیداری کا پیغام دیتی ہے ۔ اقبال کی نظر میں خودی انسانی شعور ہے۔ اور اگر انسان میں شعور نہ ہو تو اس کا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اسی طرح اگر کائنات میں خودی کا وجود نہ ہو تو ساری کائنات بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ |
2 |
| خودی جلوہ بدمست و خلوت پسند سمندر ہے اک بوند پانی میں بند :تشریحخودی یعنی شعور انسانی تجلّیِ خداوندی میں محو ہے اور اس کو تنہائی پسند ہے۔ خودی حقیقت میں ایک سمندر ہے جو محض ایک قطرے میں بند ہے۔ انسان کو با شعور ہونے یعنی خود کو جاننے اور روشنی حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان تنہائی میں اللہ کو یاد کرے۔ اس لیے خودی قدرتی طور پر خلوت پسند ہے۔ اسی طرح رب ایک سمندر ہے تو انسان ایک قطرے کی مانند ہے۔ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ “مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ”۔ جس نے اپنے آپ کو پہچانا گویا اُس نے اپنے رب کو پہچانا۔ جس طرح جگر مرادآبادی فرماتے ہیں۔ کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا جس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا ۔ |
3 |
| اندھیرے اجالے میں ہے تابناک من و تو میں پیدا من و تو سے پاک :تشریحخودی یعنی شعور انسانی کی روشنی محض تاریکی ہی کو نہیں بلکہ اُجالے کو بھی اور زیادہ روشن کر دیتی ہے ۔ یعنی خودی چونکہ بذاتِ خود روشنی ہے اس لئے اندھیرے اُجالے کا امتیاز کئے بغیر دونوں صورتوں میں اپنا جلوہ دکھاتی ہے ۔ گرچہ خودی کا ظہور بھی انسانی اجسام میں ہوتا ہے لیکن وہ ان مادی عناصر (میں اور تُو) سے پاک بھی ہے۔ |
4 |
| ازل اس کے پیچھے ابد سامنے نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے :تشریحاقبال کا نقطہ نظریہ ہے کہ خودی کا وجود آغاز کائنات سے پہلے بھی تھا اور آئندہ روز حشر تک برقرار رہے گا ۔ یعنی خودی کے نزدیک دونوں زمانوں کی کوئی حد یا اہمیت نہیں۔ |
5 |
| زمانے کے دریا میں بہتی ہوئی ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی :تشریحاقبال فرماتے ہیں کہ خودی زمانے کے دریا میں بہتی ہے اور اس کی لہروں کے ظلم و ستم بھی برداشت کرتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ خودی زمانے کے ساتھ ہم آہنگ تو ہے مگر اس کا ٹکراو زمانے کی ناقدری سے بھی ہے۔ |
6 |
| تجسس کی راہیں بدلتی ہوئی دما دم نگاہیں بدلتی ہوئی :تشریحاقبال فرماتے ہیں کہ خودی کی تلاش ایک پیچیدہ عمل ہے کہ اس تک رسائی کے لیے خودی راہیں اور نگاہیں لگاتار بدلتی رہتی ہے۔ اور اس طرز عمل کی طرح نظروں میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے ۔ مرا د یہ ہے کہ خودی کو درجہ کمال تک پہنچنے کے لیے انتہائی کٹھن اور پیچیدہ راستوں سے گزرنا پڑتا ہے |
7 |
| سبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراں پہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواں :تشریحاقبال فرماتے ہیں کہ جب خودی انتہائی کٹھن اور پیچیدہ راستوں سے گزر کر درجہ کمال کو پہنچ جاتی ہے تو پھر اس میں وہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے کہ بھاری پتھر بھی اس کے لیے بہت ہی ہلکا اور بے وزن ہو کر رہ جاتا ہے۔ پہاڑ بھی اس کی چوٹوں سے ریزہ ریزہ ہو کر اُڑتی ہوئی ریت میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہاں اقبال یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب خودی کا جذبہ مستحکم ہوجاتا ہے اور بڑی سے بڑی شے بھی اس کے سامنے ہیچ ہوتی ہے۔ |
8 |
| سفر اس کا انجام و آغاز ہے یہی اس کی تقویم کا راز ہے :تشریحعلامہ اقبال نے اس شعر میں سفر کو حرکت کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے کہ خودی کا آغاز بھی سفر ہوتا ہے اور انجام بھی۔ خودی کی استقامت اور استحکام کا راز اس کے مسلسل سفر کی حالت میں مضمر ہے۔ وہ کسی ایک جگہ رکنے کا نام نہیں لیتی بلکہ ہمیشہ متحرک رہتی ہے یعنی ہمیشہ ارتقائی منازل طے کرتی رہتی ہے۔ اگر خودی ساکن ہوجائے تو فنا ہوجائے گی۔ دراصل سفر سے یہاں مراد حرکت اور جدوجہد ہے کہ حرکت اور جدوجہد کے بغیر منزل تک رسائی مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہوتی ہے۔ |
9 |
| کرن چاند میں ہے شرر سنگ میں یہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میں :تشریحخودی کا جذبہ چاند میں کِرن اور پتھر میں چنگاری کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رنگ میں ڈوب کر بھی اس پر کوئی رنگ غالب نہیں آتا اور یہ بے رنگ ہی رہتی ہے۔ یعنی مختلف شکلوں اور رنگوں میں ظاہر ہونے کے باوجود وہ اپنی انفرادیت برقرار رکھتا ہے۔ |
10 |
| اسے واسطہ کیا کم و بیش سے نشیب و فراز و پس و پیش سے :تشریحخودی یا خودشناسی کو کسی مادی شے کی کمی و زیادتی سے کوئی واسطہ نہیں۔ نہ ہی اسے کسی بلندی و پستی اور آس پاس سے کوئی غرض ہے۔ گویا خودی یا خودشناسی کے لئے ان مادّی چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ ان سب سے آزاد و پاک ہے۔ |
11 |
| ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر ہوئی خاک آدم میں صورت پذیر :تشریحاس کائنات کے آغاز سے ہی خودی اپنی اس کوشش میں ہے کہ اس کا حقیقی مسکن تلاش کرسکے۔ بالاخر اس پر انکشاف ہوا کہ انسانی جسم ہی اس کو وہ مقام و مرتبہ دے سکتا تا کہ یہ عالم میں اپنا جلوہ دکھا سے۔ اقبال کا خیال ہے کہ انسان اور صرف انسان ہی خودی کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسری شے اس کی پناہ گاہ بننے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ |
12 |
| خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے :تشریحاقبال اپنے اس بے مثل شعر میں فرماتے ہیں کہ اے انسان تو جان لے کہ خودی کی ساری غیر محدود طاقتوں کا مرکز دل ہے۔ بالکل ویسے ہی جس طرح سے مختصر اور محدود سی آنکھ میں آسمان کی وسعتیں سمٹ جاتی ہیں۔ مراد یہ کہ انسان خود سے آشنا ہوجاتا ہے اور اپنے دل کو پہچان لیتا ہے تو اس کائنات کے راز جان سکتا ہے۔ |
13 |
(واپس جائے) ساتواں بند
| خودی کے نگہباں کو ہے زہر ناب وہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آب :تشریحاقبال کہتے ہیں کہ خودی کے محافظ کے لئے جو چیز خالص زہر ہے وہ لقمہ ہے جس سے اس کی عزت پر حرف آتا ہے۔ مراد یہ کہ خودی کے عروج کی پہلی شرط رزقِ حلال ہے۔ رزق حرام اور ناجائز کمائی سے خودی کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ |
1 |
| وہی ناں ہے اس کے لیے ارجمند رہے جس سے دنیا میں گردن بلند :تشریحاس شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ انسان کے لیے رزق حلال ہی معزز اور فائدہ مند ہے۔ اور یہی انسان کی عظمت و سربلندی کا سبب بنتا ہے ۔ مراد یہ کہ رزق حلال سے انسان کا وقار اونچا رہتا ہے اور اس کی گردن بلند رہتی ہے۔ حلال کمائی ہی سے انسان اپنی خودی کو مضبوط رکھ سکتا ہے اور یوں عظمت و بقا کو پالیتا ہے۔ |
2 |
| خودی فال محمود سے درگزر خودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کر :تشریحاقبال اس شعر میں متنبہ کرتے ہیں کہ تو محمود غزنوی جیسی شان و شوکت والے جلیل القدر بادشاہوں، سلاطین اور بڑے بڑے مالداروں سے متاثر نہ ہو بلکہ اگر تو زندگی میں کامرانی چاہتا ہے تو لازم ہے کہ ان سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنی خودی کی انمول دولت کو بروئے کار لا۔ اگر تو نے اپنی خودی کی حفاظت نہ کی تو ایاز کی طرح غلامی تیرا مقدر بن جائے گی۔ |
3 |
| وہی سجدہ ہے لائق اہتمام کہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام :تشریحاقبال فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کے سوا غیر خدا کے لیے کسی سجدے کا اہتمام ناجائز اور حرام ہیں۔ صرف خدا ہی بندگی، اطاعت اور سجدے کے لائق ہے۔ اس کے علاوہ کی اور کےلئے سجدے کا اہتمام غلامی اور کفر کے مترادف ہے۔ |
4 |
| یہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوت یہ عالم کہ ہے زیر فرمان موت :تشریح |
5 |
| یہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوش جہاں زندگی ہے فقط خورد و نوش :تشریح |
6 |
| خودی کی یہ ہے منزل اولیں مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں :تشریح |
7 |
| تری آگ اس خاک داں سے نہیں جہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں :تشریح |
8 |
| بڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کر طلسم زمان و مکاں توڑ کر :تشریح |
9 |
| خودی شیر مولا جہاں اس کا صید زمیں اس کی صید آسماں اس کا صید :تشریح |
10 |
| جہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمود کہ خالی نہیں ہے ضمیر وجود :تشریح |
11 |
| ہر اک منتظر تیری یلغار کا تری شوخئی فکر و کردار کا :تشریح |
12 |
| یہ ہے مقصد گردش روزگار کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار :تشریح |
13 |
| تو ہے فاتح عالم خوب و زشت تجھے کیا بتاؤں تری سر نوشت :تشریح |
14 |
| حقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگ حقیقت ہے آئینہ گفتار زنگ :تشریح |
15 |
| فروزاں ہے سینے میں شمع نفس مگر تاب گفتار رکھتی ہے بس :تشریح |
16 |
| اگر یک سر موئے برتر پرم فروغ تجلی بسوزد پرم :تشریح |
17 |
